شرح حدیث ابن عباس

شرح حدیث ابن عباس
شیخ جواد موسی حفظہ اللہ
مسجد رحمان
جمعہ خطبہ
؛ 27 ستمبر 2024

Automatic Transcription:

إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره
ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا
من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له
وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له
وأشهد أن محمد عبده ورسوله
أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله
وخير الهدي
هدي محمد صلى الله عليه وسلم
وشر الأمور
محدساتها
وكل محدسة بدعة
وكل بدعة ضلالة
وكل ضلالة في النار
أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم
من همزه ونفقه ونفقه بسم الله الرحمن الرحيم اشتركوا في القناة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ولساءا واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام
إن الله كان عليكم رقيبا
يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا تديدا
يسلح لكم أعمالكم ويقفل لكم ذنوبكم
ومن يتع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما
رب اشغح لي صدري ويسر لي أمري
وحلو العقدة من لساني يفقه قولي
ربنا زدنا علما
اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه
وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه
تمام تعريفه
حمد لله
بلائي بذرقي
الله سبحانه وت تعالی کے لئے ہے
کہ جو ہمارا خالق
ہمارا مالک
ہمارا مدبر
اور ہمارا معبود برحق ہے
بے شمار درود و سلام
محمد و رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم پر
کہ جو ہمارے نبی
ہمارے رسول
ہمارے امام ہیں
اللہ سبحانہ وتعالی راضی ہو جائے
صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ مجمعین سے
اہل بیت الطیبین الطاہرین سے
اور اللہ کی بے شمار رحمتیں
اور برکتیں ہوں
تابعین پر تبا تابعین پر
محدثین اکرام پر فقہ اعظام پر اللہ سبحانہ وتعالی کے نیک بندوں پر اور ہم سین پر تبا تابعین پر محدثین اکرام پر فقہ اعظام پر
اللہ سبحانہ وتعالی کے نیک بندوں پر اور ہم سب پر
یوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
ہر حدیث ہی انتہائی اہمیت کی حامل ہے
اور جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے خود بیان فرمایا
کہ او تیتو جوامع
الکلم
کہ مجھے جوامع الکلم
دیئے گئے
یعنی کہ ایسے کلمات دیئے گئے
کہ جو حجم کے اعتبار سے
انتہائی مختصر ہیں
لیکن معنی کے اعتبار سے اہمیت کے اعتبار سے اس کی تاثیر کے اعتبار سے انتہائی مختصر ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے
اہمیت کے اعتبار سے
اس کی تاثیر کے اعتبار سے
انتہائی وزنی وہ کلمات ہیں
انہی کلمات میں سے
ایک حدیث
حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ ہے
کچھ احادیث مبارکہ
اپنے موضوع کی طرح منصوب ہوتی ہیں کچھ احادیث مبارکہ رضی اللہ عنہ اور اصول دین کی تعین کروا کر چلے جانا اسی طرح یہ حدیث ابن عباس
جس کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
دین کے کچھ قائدے جو ہیں
وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
کو بیان کر رہے ہیں
اور مختلف مختصر سے کلمات کے ذریعے سے دین پر ثابت قدمی
اور دین کو کیسے جو ہے وہ پکڑ کے رکھنا ہے اور کیسے اس دین میں کامیابی
اور فلاح حاصل کرنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابی
کو بیان کر رہا ہے تو آج اس حدیث پر غور و فکر کریں گے اس حدیث کے بارے میں ابن جوزی رحمہ اللہ جامع بیان العلم و فضلی کے اندر ذکر کرتے ہیں
کہ یہ حدیث جب میں اس پر غور کرتا گیا تو میں دہشت زدہ ہو گیا
کہ اتنے عظیم اس کے معانی اور انہی کے ہمعثر عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ
وہ بیان کرتے ہیں
کہ اس حدیث کو
ہر مومن کو چاہیے
کہ وہ اپنے دل کا شیشہ بنا لے
اپنے ظاہری
اعتبار سے کیے گئے فیصلوں کو بھی
اور اپنے باطنی لباس کو بھی
اس شیشے کے اوپر دیکھے
اپنی دل کو چیک کرے
کہ کیا میں صحیح
زندگی گزار رہا ہوں یا نہیں گزار رہا ہوں
انتہائی
بہترین حدیث
اور اس کے راوی
سیدنا عبداللہ بن عباس
رضی اللہ عنہ
صغار صحابہ میں
آپ رضی اللہ عنہ کا
شمار ہوتا ہے
حبروہادہ الامہ
اس امت کے علم کے سمندر مفس اللہ عنہ کا شمار ہوتا ہے حِبْرُ هَذِهِ الْعُمَّةِ اس امت کے علم کے سمندر
مُفَسِّرُ هَذِهِ الْعُمَّةِ
اس امت کے مُفَسِّر
صحابہ اکرام رضی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اجمعین کہتے ہیں
کہ جب کسی حدیث کی اندر
ابن عباس کی رائے ہمیں معلوم ہو جایا کرتی تھی
تو ہم جو ہے
ابن عباس کی رائے کو ہی
صحیح سمجھا کرتے تھے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صحبزادے
فتح مکہ سے پہلے پیدا ہوئے
اور فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
صرف تیس ماہ کا عرصہ گزارا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
جس وقت اس دنیا سے تشریف لے گئے
اس وقت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر
تیرہ برس تھی
یعنی کہ بچپن کا اور
ایام تفولیت کا زمانہ
جو ہے وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارا
اتنی چھوٹی عمر کے صحابہ
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اس دنیا سے جا رہے ہیں
اس وقت آپ کی عمر
تیرہ سال ہے
تو سوچئے کہ فتح مکہ میں جب رسول اللہ صلیرہ سال ہے تو سوچئے
کہ فتح مکہ میں جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
اسلام تو پہلے لا چکے تھے
لیکن یہ مستضعفین
میں سے تھے جن کا ذکر
سور نساء میں اللہ سبحانہ
و تعالی نے دیا ہے کہ
جو اللہ المستضعفین ہیں
وہ کمزور لوگ جو جن کے پاس
راستہ نہیں تھا جن کے پاس کوئی سبیل نہیں تھی کہ وہ ہجرت کر جاتے ان کو اللہ المستضعفین ہیں وہ کمزور لوگ جن کے پاس راستہ نہیں تھا
جن کے پاس کوئی سبیل نہیں تھی
کہ وہ ہجرت کر جاتے
ان کو اللہ سبحانہ وتعالی نے استثناء دی
ایکسپشن دی
کہ ٹھیک ہے ان پہ کوئی جرمانہ نہیں ہے
ان لوگوں میں شامل تھے
سیدنا عباس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں
کہ آیت ہم پہ نازل ہوئی تھی
ہم ہی وہ مستضعفین تھے
سوچئے کہ اس عمر میں
جب یہ آٹھ
ہجری میں دس گیارہ
سال کی عمر میں ہجرت کر کے
مکہ سے جو ہے مدینہ آئے فتح
مکہ کے بعد اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ تو کل ملا کر
تیس ماہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ گزارے انہوں نے
لیکن ان تیس ماہ میں قلیل ملی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزارے انہوں نے لیکن ان تیس ماہ میں
قلیل مدت کے اندر
کیا وجہ بنی
کہ ان کو جو ہے حبرو حادی الامہ
اس امت کے
علم کا سمندر
کہا جاتا ہے
اس کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں
ایک تو روایت ہے
کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
سیدہ محمونہ رضی الل ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ
رضی اللہ عنہ کے پاس تھے
ان کے ہاں قیام فرما تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم
قضاء حاجت کے لئے گئے
جب واپس آئے تو دیکھا گھر کے دروازے پر
وہ پانی بھر کے رکھ دیا ہے
سیدنا عبداللہ بن عباس نے
جو ان کی خالہ ہوتی تھی
تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
ان کے اس عمل سے انتہائی خوش ہوئے
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کری
کہ اللہم فقح فی الدین و علم تحویل
اے اللہ اس کو دین کی سمجھ دے
اور اس کو تعویل کا علم دے
اس کو تفسیر کا علم دے
اللہم علم الكتاب اے اللہ اس کو کتابل کا علم دے اس کو تفسیر کا علم دے اللہم علم الكتاب
اے اللہ اس کو کتاب سکھا دے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے لئے
ایک تو یہ دعا سبب بنی
کہ وہ اتنے زیادہ علم کا پہاڑ بن گئے
اور دوسری جو بات بنی
وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
خود بیان فرماتے ہیں
کہتے ہیں کہ
میں اور میرے ساتھ ایک انساری صحابی
میں نے ان سے کہا
کہ چلو ہم نکلتے ہیں
گیارہ بارہ سال کے نوجوان بچے
انہوں نے کہا کہ چلو ہم نکلتے ہیں
اور ہم صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ مجمعین سے
اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کا علم حاصل کرتے ہیں
تو ان انساری صحابی نے کہا
کہ آپ کیا سمجھتے ہیں
ان بڑے بڑے صحابہ کی موجودگی میں
کیا کوئی آپ سے آکے علم لے گا
آپ کیوں اتنی فکر کر رہے ہیں
کیوں اتنی محنت کر رہے ہیں
بڑے بڑے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ مجمعین موجود ہیں
لوگ ان سے سوال کریں گے
آپ کا علم کسی کام نہیں آئے گا
آپ آرام سے بیٹھئے
لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
انہوں نے تحیہ کر لیا
وہ روزانہ چلے جاتے
صحابہ اکرام رضی اللہ علیہ وآلہ وآلہ موجود ہیں
کہ گھر کے باہر جا کے بیٹھتے
ان کو معلوم ہوتا
فلاں صحابی کو فلاں حدیث موجود ہے
ان کے گھر چلے جاتے
اگر دروازہ بند ہوتا تو بتاتے ہیں
گھر کے سامنے چادر کو لپیٹ کے
وہیں لیٹ جاتا آرام کرتا
جب وہ صحابی باہر نکلتے پوچھتے
کہ یا ابن عمر رسول اللہ
اے اللہ کے نبی کے چاچا کے بیٹے
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں
میں ان کو بتاتا کہ مجھے معلوم ہوا
کہ اس موضوع پر آپ کو حدیث موجود ہے
آپ کے پاس حدیث موجود ہے
اس موضوع کے اوپر اس آی موجود ہے آپ کے پاس حدیث موجود ہے اس موضوع کے اوپر
اس آیت کا شان نزول آپ کو پتا ہے
وہ آیت نازل ہوئی تو آپ وہاں موجود تھے
آپ اس کی تصدیق کیجئے
مجھے بتائیے
وہ صحابی رسول کہتے
کہ اللہ کے نبی کے چچا کے بیٹے
آپ ہمیں بھلا لیتے
آپ نے کیوں تکلیف کری
اور اس کے بعد وہ کہتے نہیں نہیں نہیں
مجھے علم حاصل کرنا ہے
تو میں خود صعوبت اختیار کروں گا
میں سفر اختیار کروں گا
اور وہ علم حاصل کرتے گئے
کرتے گئے کرتے گئے
یہاں تک کہ ایک زمانہ وہ بھی آیا
کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زمانہ
سیدنا عمر فاروق کی خلافت
تیرہ ہجری میں شروع ہو جاتی ہے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے دو سال بعد
سیدنا عمر فاروق اپنے زمانے کے اندر
جب شیوخِ بدر
وہ صحابہ جنہوں نے بدر کی جنگ میں شرکت کی تھی
جب ان کی مجلس منعقد ہوتی
وہ بیٹھ کے باتیں کر رہے ہوتے
تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن عباس کو بھی اس مجلس میں بلا لیا کرتے ہیں
کچھ صحابہ نے
objection کیا
کہ بھئی ہمارے بھی بچے ہیں
ان کو تو اجازت نہیں ملتی
کہ یہ بڑے صحابہ کی مجلس ہے
بڑوں کی باتیں ہوں گی اس میں
یہ اس بچے کو عبداللہ بن عباس کو آپ کیوں بلا لیا کرتے ہیں
تو سیدنا عمر فاروق نے
اس کا جواب
ایک امتحان لے کے دیا
سیدنا عمر فاروق نے کہا کہ عبد ایک امتحان لے کے دیا سیدنا عمر فاروق نے کہا
کہ عبداللہ بن عباس کو بلا لیجئے
مجلس کے اندر شیوخِ بدر موجود تھے
سوال کیا
کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے
کہ سورة النصر کی شانِ نزول کیا ہے
اذا جاء نصراللہ والفتح
یہ کیوں نازل ہوئی ہے
کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے
کئی انصار صحابہ خاموش رہے
کئی بڑے صحابہ خاموش رہے
ان کو نہیں معلوم تھا
کچھ صحابہ نے کہا
ہاں اس کے اندر جو ہے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
یہ بتایا جا رہا ہے
کہ آپ کا مشن مکمل ہو گیا
اب آپ استغفار کیجئے
اللہ کی حمد و سنا بیان کیجئے
سیدنا عمر نے کہا
کہ عبداللہ بن عباس آپ جواب
دیجئے کہ یہ صورت کیوں نازل ہوئی
عبداللہ بن عباس نے
وہی تفسیر بیان کری
جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ
عنہ نے سمجھے تھے
کہ اس آیت کے اندر اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کی
وفات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کی اس دنیا سے چلے جانے کا
اشارہ موجود ہے
یہ تھی ان کو فقاحت اور
قرآن کے سمجھنے کی ان کی انڈرسٹینڈنگ
کا لیول کہ بڑے بڑے صحابہ
کو پیچھے چھوڑ دیا انہوں نے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کی دعا اور اپنی محنت
تو اس کومبینیشن
کے ساتھ اللہ سبحانہ وتعالی نے
انہیں ایسا فضل بخشا
کہ سیدنا عمر فاروق انہیں بدر کے جو بزرگ صحابہ بیٹا کرتے تھے بدری صحابہ جنہوں نے بدر کی جنگ میں شرکت کی ہوئی تھی ان کے ساتھ بٹھایا جاتا تھا اور ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عباس کی توازو اللہ اکبر سیدنا زید بن ثابت جو کہ قاتب وحی ہیں جنہوں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی وحی کی کتابت کری
سیدنا ابو بکر نے اگر کسی کو خلافت
اپنے زمانے میں قرآن کو جمع کرنے کی
ذمہ داری دی تو وہ بھی زید بن ثابت
کو ہی اس کا لیڈر بنایا
کہ آپ سب سے زیادہ قرآن مجید کو صحیح سمجھنے والے ہیں
آپ یہ ٹاسک لیجئے
وہ اللہ کے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ
ایک دفعہ گھوڑے پر جا رہے تھے جب وہ اترنے لگے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دفعہ گھوڑے پر جا رہے تھے
جب وہ اترنے لگے
تو عبداللہ بن عباس نے ان کے پاؤں کے نیچے
اپنے ہاتھ رکھ دیے
تاکہ وہ اس پااؤں پر ہاتھ رکھ کر اتر جائیں
جب وہ اترے تو انہوں نے کہا
یہ آپ نے کیا کیا
تو عبداللہ بن عباس کہتے ہیں
ہاں کذا امرنا
ان نعمل بعلمائنا
ہمیں یہی سکھایا گیا ہے
کہ ہم اپنے علماء کے ساتھ
کس طرح پیش آئیں
ان کے جو ہے وہ خدمت کریں
ان کو سپورٹ کریں
ان کی خدمت کریں
اور اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
انہوں نے ان کا ہاتھ چوما
اور کہا ہاں کدا امرنا
انہا عملو بی اہل بیت رسولنا
اور ہمیں یہ سکھایا گیا ہے
کہ ہم اللہ کے نبی کے اہل بیت کے ساتھ کیا کریں
انہوں نے ان کے ہاتھوں کو چوم لیا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
غالباً پیتالیس
یا اٹھالیس حجری میں ان کی وفات ہے
جب آپ کی وفات ہوتی ہے
تو کہنے والا کہتا ہے
کہ اس امت کا حبر چلا گیا
اس امت کے علم کا سمندر چلا گیا
امید کرتے ہیں
کہ ان کی کمی کو عبداللہ بن ع چلا گیا امید کرتے ہیں کہ ان کی
کمی کو عبداللہ بن عباس
پوری کر سکیں گے
سوچئے زید بن ثابت
جنہوں نے جو کاتب وحی ہیں
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے
کتابت کرتے ہوئے آ رہے ہیں
ان کی ریپلیسمنٹ اگر سمجھی جا رہی ہے
تو عبداللہ بن عباس
رضی اللہ عنہ کو سمجھا جا رہا ہے
آپ رضی اللہ عنہ کو سمجھا جا رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ
انہوں نے جو ہے
وہ سولہ سو ساٹھ احادیث روایت کی ہیں
جن میں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اندر
سچھتر کے قریب احادیث ہیں
جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی
صرف تیس ماہ کار سا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارا
لیکن علم حاصل کیا
محنت کری
اور اس کے ذریعے سے سولہ سو ساٹھ احادیث کے راوی ہیں جس کو انہ وسلم کی خدمت میں گزارا لیکن علم حاصل کیا محنت کری اور اس کے ذریعے سے
سولہ سو ساٹھ احادیث کے راوی ہیں
جس کو انہوں نے روایت کیا ہے
اللہ اکبر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ
ابن عباس کے بارے میں فرماتے ہیں
نعم ترجمان القرآن ابن عباس
قرآن مجید کا
سب سے بہترین ترجمان اگر کوئی ہے
تو وہ ابن عباس ہے
اور آج بھی اس بات کو ذہن میں رکھئے
کہ جب کسی چیز کے اندر علماء اکرام کو اختلاف مل رہا ہوتا ہے
کس آیت کی تفسیر میں یہ قول بھی آ رہا ہے
یہ قول بھی آ رہا ہے
تو علماء تفسیر مفسرین اعتماد کرتے ہیں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو کہ جس چیز کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو
کہ جس چیز کو عبداللہ بن عباس
رضی اللہ عنہ نے معتمد کہا ہے
وہی سب سے بہترین روایت ہوگی
وہی سب سے بہترین تفسیر ہوگی
اس کتاب کی
ابن عمر رضی اللہ عنہ
کہتے ہیں
وَأَعْلَمُ النَّاسِ مِنَّا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ
کہ
ہم سب میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت تھے
کہ قرآن مجید اللہ کے نبی پر جو نازل ہوا ہے
ہم سب میں سب سے زیادہ جاننے والی شخصیت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
یہ ان کے معاثرین ان کو تیسٹومنی دے رہے ہیں
ان کے جو معاثرین ہیں عبداللہ بن عمر
عبداللہ بن مسعود
یہ صحابہ اکرام رضی اللہ علیہ وآلہ وآلہ
ان کو تذکیہ دے رہے ہیں
ان کے بارے میں یہ کلمات جو ہیں
وہ بیان کر رہے ہیں
اور جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے
سیدنا ابو حریر رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا
کہ انہوں نے زید بن ثابت
رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہا
کہ اس امت کا علم کا سمندر چلا گیا
ہم امید کرتے ہیں
کہ عبداللہ بن عباس
ان کی ریپلیسمنٹ ثابت ہوں گے
کون اسٹیٹمنٹ دے رہا ہے
سجیدنا ابو حریرہ رضی اللہ عنہ
حدیث جس کا ہم آج ذکر کر رہے ہیں
اس حدیث کا نام
حدیث ابن عباس اسی لیے ہے
کیونکہ یہ حدیث سجیدنا عبداللہ بن عباس نے روایت کی ہے
کہہ رہے ہیں
کنت رضی فرن نبی صلی اللہ عل رہے ہیں میں اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے
سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ سواری پر
جا رہا تھا ایک روایت کے اندر گدے کا بھی
ذکر ہے کہ گدے پر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ سواری کر رہا تھا
علماء نے
اس حدیث سے
کئی سمباتات کی ہیں
کئی مسئلے اخذ کی ہیں
ایک مسئلہ یہ بھی کیا ہے
کہ جواز الارضاف فداب
ایک سواری کے اوپر دو لوگ سوار ہو سکتے ہیں
اس کو بھی علماء نے
اس حدیث سے ہی ثابت کیا ہے
اور کچھ علماء نے
اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
جن لوگوں کو سواری کرنے کا
موقع ملا
ان لوگوں کو جمع کیا ہے
اور ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریباً
پچاس خوش نصیب لوگوں کے نام ذکر کیے
کہ جنہوں نے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
مختلف مواقع پر
کسی نے اوٹ پر کسی نے گھوڑے پر کسی نے گھدے پر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کی
اور ایک سواری
سیدنا جبریل علیہ السلام
نے براق کے اوپر
اللہ کے نبی کریم
فرمارہے ہیں
میں اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم
کے ساتھ سوار تھا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے مجھے بیان کیا
کہ یا غلام اے بیٹے
گیارہ بارہ سال کا بچہ ہے تو اس کو غلام ہی
کہا جائے گا عربی کے اندر غلام
پیدائش سے لے کر
بلوغت سک کے زمانے کو کہا جاتا ہے
چھوٹے بچے کو بھی غلام کہا جا سکتا ہے
دس سال کے بچے کو بھی غلام کہا جا سکتا ہے
بارہ تیرہ سال کے بچے کو
جب تک وہ بالغ نہیں ہو رہا
سب تک اس بچے کو عربی کے اندر غلام ہی کہا جاتا ہے
یا غلام
اے چھوٹے بچے
اے بچونگڑے
پیار سے مخاطب کیا
یہاں سے کیا حاصل ہو رہا ہے
یہاں سے حاصل ہو رہا ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
دعوت کا تبلیغ کا دین کو سکانے کا
کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے
سواری کر رہے ہیں
موقع ملا بچے کو سکانا شروع کر دیا بچے کو تعلیم دینا یہ بھی یہاں سے حاصل کر رہے ہیں موقع ملا بچے کو سکھانا شروع کر دیا
بچے کو تعلیم دینا
یہ بھی یہاں سے حاصل ہو رہا ہے
ہم انتظار کرتے ہیں بچے بھی بہت چھوٹا ہے
بڑا ہو جائے نہیں
دین کی بنیاد دین پر استقامت کیسے کرنی ہے
اتنا بڑا مسئلہ
لیکن بچے کو سکھا رہے ہیں
یا اب غلام
بیٹے میں تمہیں کچھ کلمات سکا رہا ہوں
یہاں سے ہمیں معلوم ہو رہا ہے
التدرج بالعلم
دین کے اندر تھوڑا تھوڑا کر کے
چھوٹی چھوٹی ڈوز
چھوٹی چھوٹی بات کر کے سکائی جائے بچوں کو
تاکہ وہ اس کو ڈائجیسٹ کر سکے
اس کو سمجھ سکے
اس پر عمل پیرا ہو سکے
بجائے اس کے کہ بڑا لیکچر دے دیا
نہیں بتا رہے ہیں بیٹے
تمہیں چھوٹی چھوٹی باتیں سکا رہا ہوں انی اعلیمک ک بیٹے تو میں چھوٹی چھوٹی باتیں سکھا رہا ہوں
انی اعلمک کلمات
میں تمہیں چھوٹے چھوٹے کلمے سکھا رہا ہوں
اور مسند احمد کی روایت
یہ روایت ابن ماجہ کی ہے
اس میں یہ کلمات موجود نہیں ہے
لیکن اس حدیث کی ایک روایت
مسند احمد کے اندر بھی ہے
اس کے اندر فرمایا
انی اعلمک کلمات
ینفعک
اللہ بہن
اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ذریعے نفع
دے گا یعنی کہ بچے کو شوق بھی
دلایا جا رہا ہے کہ میں تمہیں جو کلمات
سکا رہا ہوں یہ ایسی فضول باتیں
نہیں ہیں یہ تمہارے کام آئیں گی
تو میں انتہائی اہم نصیحت کر رہا ہوں
توجہ سے سنو بچے کی توجہ
کو گرس کرنا اس کو جو ہے
وہ انفارم کرنا اس کو اعتماد دلانا کہ میں تمہیں بہت بڑی بات بتا رہا ہوں توجہ سے سنو بچے کی توجہ کو گریس کرنا اس کو جو ہے وہ انفارم کرنا اس کو
اعتماد دلانا کہ میں تمہیں بہت بڑی
بات بتا رہا ہوں غور سے سنو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم
بہترین معلم ہیں
جتنی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے استعمال کی ہے اگر ہمارے
آج کے والدین اور آج کے
مدرس اگر وہ سیکھ لیں
تو ہمیں بھی اپنے بچوں کو سمالنا اور
مینج کرنا اور سیکھنا آجائے
اور سکھانا آجائے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
کہ میں تمہیں چھوٹی باتیں سکھا رہا ہوں
یہ تمہیں فائدہ دیں گی
کیا باتیں ہیں اس کے بعد
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
شروع کر رہے ہیں کہہ رہے ہیں
احفظ اللہ
احفظ اللہ
چھوٹا سا جملہ دو کلمات پر مشتمل جملہ احفظ اللہ چھوٹا سا جملہ
دو کلمات پر مشتمل جملہ
احفظ اللہ
اللہ کی حفاظت کرو
اللہ حُفظ
صرف اس کی تفسیر سمجھنے بیٹھ جائیں
خدبے کی تیاری کے لئے
میں حدیث ابن عباس کی شرعہ
جو کہ
شیخ ارشاد علق اثری
حفظہ اللہ نے لکھی ہے
اس سے متعلق کر رہا تھا
اب یقین کیجئے احفظ اللہ
کی شرعہ پر شیخ صاحب نے چالیس صفحے لکھے
اور ان چالیس صفحات کے اندر
کم و بیش پیسس چتے سے
قریب آیات موجود ہیں
دو ورڈ کی شرح کے اندر
احفظ اللہ
اللہ کی حفاظت کرو
کتنا چھوٹا کلمہ بولا
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
لیکن اس کے معنی کتنے گہرے ہیں
فرما رہے ہیں احفظ اللہ
اللہ کی حفاظت کرو
اللہ جو خالق کائنات ہے
جو مالک کائنات ہے
جس کا نام ہے الحفیظ
حفاظت کرنے والا
ہم اس کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں
ہم اس کی حفاظت کریں گے
اس کے احکامات کی حفاظت کر کے
اس کے عوامر کی حفاظت کر کے
اس کے نواحی پر
ترک کر کے ان کی حفاظت کر کے
یہ اللہ سبحانہ وتعالی کی حفاظت ہے
یہ تو جرنلی بات ہو گئی
اور کچھ چیزیں
خاص بھی بیان کی ہیں اللہ سبحانہ وتعالی کی حفاظت ہے یہ تو جرنلی بات ہو گئی اور کچھ چیزیں خاص بھی بیان کی ہیں
اللہ سبحانہ وتعالی نے
جیسا کہ فرمایا
حافظوا علی السلوات والسلات الہست
نمازوں کی حفاظت کرو
اس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے
تو اللہ کے سب سب عوامر میں
جو سب سے پہلا عمر ہے
جس کے بارے میں سوال ہوگا
وہ نماز ہے
تو سب سے زیادہ اللہ کی حفاظت کیسے میں سوال ہوگا وہ نماز ہے تو سب سے
زیادہ اللہ کی حفاظت کیسے کی جا سکتی ہے نمازوں کی حفاظت کریں اور
نمازوں کی حفاظت کرنے کی مقصد علماء بیان کرتے ہیں کہ ان کو ان کے
وقت مقررہ پر ادا کرنا تاخیر نہ کرنا اور خاص طور پر اس آیت میں
اثر کی نماز کا ذکر کرنے کا وجہ یہ ہے کہ اس وقت مارکٹ اپنے عروج پر
ہوتی ہے کسٹمر بھرا
ہوتا ہے دوب کی شدہ ٹوٹ چکی ہوتی ہے
دکان پہ مارکٹ میں ہر جگہ
رش لگا ہوتا ہے ایسے ٹائم پہ
سب سے زیادہ انسان غفلت کا شکار ہو جاتا ہے
اسی لئے فرمایا
کہ حافظو علیہ السلواتی
وصلات الوسطہ اور
کفار بھی اس بات کو جانتے تھے
ایک جنگ میں
زہر کی نماز کے بعد کفار نے
کہا کہ ابھی تھوڑا صبر کرو
تھوڑی دیر میں اس نماز کا وقت آنے والا ہے
جس نماز کی حفاظت
یہ مسلمان اپنے بچوں سے بھی
زیادہ کرتے ہیں انتظار کرو
جیسے یہ اثر کی نماز پڑھیں گے
ہم ان پہ اللہ بول دیں گے
کفار بھی جانتے تھے کہ مسلمان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ان کے صحابہ اکرام
کتنی زیادہ اس نماز کی حفاظت کرتے ہیں
کہ وہ اپنی جنگی
سٹریٹیجی میں اس بات کو شامل کر رہے تھے
کہ اثر کے وقت ہم اللہ بولیں گے
ان کو وہ نماز پڑھنے دو
رک جاؤ ابھی تھوڑا سبر کرو
تو جبریل امین آئے اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا
اور صلاة الخوف کے حکام آگئے کہ آدھے آگے
جا کے جنگ کریں گے آدھے پیچھے کڑے ہو کے نماز
پڑھیں گے پھر دوسرے آدھے آگے جائیں گے
نماز بھی خسر ہو گئی ہے سارا جنگ
کی نماز کا جو طریقہ ہے
وہ نازل ہوا اور کفار
کو اللہ تعالی نے موقع نہیں دیا کیوں
کیونکہ انہوں نے اللہ کی حفاظت کری
تو اللہ نے ان کی حفاظت کری
فوراں ان کو طریقہ دے دیا
کہ اس طرح اس اسٹریٹیجی کے ساتھ
آپ اپنی حفاظت کرتے ہوئے نماز پڑھ سکتے ہیں
احفظ اللہ
پہلی چیز نماز کی حفاظت کا حکم ہے
دوسری چیز
اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا
وَالَّذِينَهُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِذُونَ
اور ایک جگہ فرمایا
وَالَّذِينَهُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِذُونَ
سورہ معارج کے اندر فرمایا
جو لوگ فلاح پانے والے ہیں
وہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں
سورہ مومنون میں فرمایا
وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
تو یہ نماز کی حفاظت
کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے
دوسری چیز جس کے بارے میں حکم دیا
فرمایا
قسموں کی حفاظت
جب قسم کھاؤ
تو اس کی حفاظت کرو
وحفظو ایمانکم اپنی قسم اس کی حفاظت کرو وحفظوا ایمانکم
اپنی قسموں کی حفاظت کرو
اللہ اکبر
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے شدید وعید بیان فرمائی
اس شخص پر جو اپنا مال بیچنے کے لیے
چھوٹی قسم کھا لے
ایک اور حدیث میں
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
اکبر القبائر
بڑے بڑے گناہ ان میں سے ایک گناہ بتایا
یمین الغموض جھوٹی قسم کھانا
جھوٹی گواہی دینا
یہ اللہ سبحانہ وتعالی کے نزدیک
شرک اور والدین کی نافرمانی کرنے
جتنے بڑے بڑے گناہوں کے جتنا بڑا گناہ
ہم اس کو چھوٹا لے لیتے ہیں
مارکٹ کے اندر
کسرت کے ساتھ ہمیں لوگ ملتے ہیں
اتنے کا تو وارہ بھی نہیں پڑھ رہا
اتنی تو خرید بھی نہیں ہے
اتنے میں میرے وارے میں نہیں آرہا
اس طرح کے جملے کہتے نا
یہ قسم کی ہی ایک قسم ہے
آپ کہہ رہے ہیں نہیں یار اتنے میں نہیں ہو سکتا
اتنے کا تو گھر نہیں آئے یہ
آپ بیان کر رہے ہیں
بیچنے کے لئے
مارکٹنگ اسٹریٹیجی ہے لوگوں کی زبان کے
اوپر چڑا ہوا ہے لیکن شدید
وعید اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس حوالے سے بیان کی
تو اپنے قسموں کی حفاظت کرنی ہے
اور قسموں کی تین اقسام ہیں
ایک ہے قسم اللغو
جو
واللہ بللہ
عادتاً لوگوں کی زبان سے نکل جاتے ہیں
قسم سے
اللہ تعالیٰ اس پر پکڑ نہیں کرتا
کوشش کرنی چاہیے کہ زبان سے نہ نکلیں لیکن اگر زبان سے نکل جاتے ہیں قسم سے اللہ تعالیٰ اس پر پکڑ نہیں کرتا کوشش کرنی چاہیے کہ زبان سے نہ
نکلیں لیکن اگر زبان سے نکل جائیں
تو اللہ تعالیٰ کیا یہ
معاف ہیں دوسری ہے
قسم المناقض جو
نیت کے ساتھ ارادے کے ساتھ آپ
کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ ایسے ہی ہے
اس صورت میں آپ
جو ہے اگر اس قسم کو پورا نہیں
کر رہے اس کی حفاظت نہیں کر رہے
تو شریعت نے آپ کے اوپر اس کے کفارہ رکھا ہے
ایسے نہیں ہے کہ آپ نے قسم کھا دی
اور پھر اس قسم کو پورا نہیں کیا
اور شریعت میں آپ پر کچھ لائیبلیٹی نہیں ہے
نہیں اس کی شریعت نے
بقائدہ سزا ذکر کی ہے
فرمایا کہ یا تو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے
یا تو دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے
یا پھر ایک غلام ازاد کرنا ہے
اور اگر یہ تینوں کام
نہ کر سکتے ہوں
غریب آدمی ہے اس کے پاس افورڈنگ نہیں ہے
نہ کھانا کھلانے کے پیسے ہیں
نہ لباس پہنانے کے پیسے ہیں
نہ ہی جو ہے وہ غلام ازاد کر سکتا ہے
اس کے پاس کوئی غلام نہیں ہے
تو اس صورت میں دس روزے رکھنے ہیں
یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے
قسم
کمیٹمنٹ اس کا دین
اسلام نے بہت احتمام کیا ہے
اور احفظ اللہ
اس کے اندر علماء نے اور مفسرین
نے ذکر کیا ہے کہ زبان کی حفاظت
بھی اس کے اندر آتی ہے قسم کی
حفاظت بھی اس کے اندر آتی ہے اور تیسری
حفاظت جس کا اللہ سبحانہ
و تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے وہ
ہماری شرمگاہ کی حفاظت ہے
برائی سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے وہ ہماری شرمگاہ کی حفاظت ہے برائی سے بچنے کا
ہمیں حکم دیا ہے اور فرمایا
کہ
کہ وہ لوگ
جو اپنی شرمگاہ
کی حفاظت کرنے والے ہیں
اور جہاں حکم دیا
تو صرف یہ نہیں کہا
کہ شرمگاہ کی حفاظت کرو
بلکہ اس سے پہلے اس کی طرف جانے والے جو راستے ہیں یعنی کہ شرمگاہ کی حفاظت کرو بلکہ اس سے پہلے اس کی طرف جانے والے جو
راستے ہیں یعنی کہ نگاہ
کی بھی حفاظت کرو کیونکہ جب آپ
نگاہ کی حفاظت نہیں کریں گے
تو آپ کے لئے شرمگاہ کی حفاظت کرنا
مشکل ہو جائے گا اگر آپ
اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں گے
تو آپ کے لئے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا
آسان ہو جائے گا
اس لئے جب فرمایا
وَلَا تَقْرَبُ الْفَوَاحِشَةِ
برائی کے قریب بھی نہ جاؤ
یہ بہت بڑا مسئلہ ہے
اس وقت کا لوگ کہتے ہیں
کیا ہوتا ہے
ہمیں کنٹرول ہے اپنے اوپر
نہیں
جب آپ اپنی نظروں کی حفاظت
نہیں کریں گے
تو قریب ہے
کہ کسی دن آپ
اس گناہ میں
ملوث ہو جائیں گے
تو دین اسلام
کیونکہ دین فطرت ہے
دین حقیقت ہے
تو اللہ سبحانہ وتعالی نے
صرف آپ کو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کا حکم نہیں دیا
بلکہ آپ کو اپنی نظروں
کی حفاظت کا اور نظروں کو نیچے کرنے کا
بھی حکم دیا ہے تو اس کا بھی ہمیں
احتمام کرنا چاہیے تو یہ تھا
احفظ اللہ کی حفاظت کرو
اس کے عوامر کی حفاظت کر کے
کیا فائدہ ہوگا یحفظ
اللہ تعالی آپ کی حفاظت کرے گا
یہ فورمیولہ ہے قائدہ ہے
بھرا پڑھا ہے قرآن
تم اللہ کی مدد کرو گے
اللہ تمہاری مدد کرے گا
وہ اللہ کے ساتھ دھوکہ کر رہے تھے
اللہ نے ان سے دھوکہ کیا
یہ جیسی کرنی
ویسی بھرنی
یہ رول ہے
تم اللہ کی حفاظت کرو گے
اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا
کیسے حفاظت کرے گا
دو طرح سے حفاظت کرے گا
ایک تو دنیاوی اعتبار سے
تمہارے مال کی حفاظت
تمہاری جان کی حفاظت
تمہاری اولاد کی حفاظت
سورہ کحاف کے اندر ہم پڑھتے ہیں نا
وَكَانَ أَبُوْمَا صَالِحًا
ان کا باپ نیک تھا
اللہ تعالیٰ
اس باپ کے مرنے کے بعد
ان بچوں کے ورثے کے پیسے جو
زمین میں چھپے ہوئے تھے
اس کی حفاظت کا بندوبست کر رہا ہے
ایک نبی اور ایک ولی کو بھیج رہا ہے
کہ جائیے ان کی دیوار ٹھیک کر کے بنا دیجئے
اللہ اکبر
اللہ تعالیٰ کا حفاظت کا نظام کیسا ہے
یہ حفاظت
اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا تم سوچ نہیں سکت حفاظت اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا
تم سوچ نہیں سکتے وہاں سے اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا
بھرے پڑے ہیں قصے
کفل کا قصہ ہے
اور دیگر لوگوں کے قصے ہیں
جن لوگوں نے
اللہ کی حفاظت کری
اللہ کے حکامات کی حفاظت کری
اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا
ہم اپنی زندگیوں میں دیکھتے ہیں
کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ کسی پریشانی میں ڈال دیتا ہے
وہ کام کر ہی نہیں پاتے
اللہ تعالیٰ بچا لیتا ہے
تو یہ انہی کے ساتھ ہوتا ہے
جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں
اگر کوئی گناہگار ہے
اور وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے
کہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ بچا لیتا ہے
تو ہو سکتا ہے آزمائش ہو اس کے ساتھ
لیکن حقیقت میں
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے
یوسف علیہ السلام کی حفاظت کری
ان کے مالک کی بیوی
ان کو دعوت دے رہی ہے
اللہ تعالیٰ نے حفاظت کری
اللہ تعالیٰ ہی حفاظت کرنے والا ہے
فاللہ خیر حافظ
و هو ارحم و رحمین
بہترین حفاظت کرنے والا ہے
تو کون نہیں چاہے گا کہ وہ اس کی پروٹیکشن کے اندر آجائے
اس کی حفاظت میں آنے کے لئے
بہترین فارمولہ
احفظ اللہ اللہ کی حفاظت کرنا شروع کرئے بہترین فارمولہ احفاظ اللہ
اللہ کی احفاظت کرنا شروع کر دیجئے
آگے فرمایا
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
احفاظ اللہ
بیٹے جب تم اللہ کی احفاظت کرو گے
تجدہو تجاہک
تو اس کو اپنی سائیڈ پہ پاؤ گے
تجدہو امامک
ایک روایت کے اندر
اسے اپنے سامنے پاؤ گے
اللہ اکبر
اس حدیث کو سمجھنے کے لئے
ایک اور حدیث سمجھ لیجئے
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فرمایا
ما تقرب علیہ عبد بشیر
احب علیہ ممفترستو علیہ
کوئی بندہ اللہ کے محبوب
اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک
کہ وہ فرائض کی بابندی نہ کرنے شروع کرے
اور فرائض کے ساتھ ساتھ
جب وہ نوافل بکسرت ادا کرنا شروع کرتا ہے
تو پھر کیا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی
اس کا ہاتھ بن جاتا ہے اللہ تعالی
اس کے پاؤں بن جاتا ہے کیسے
اللہ تعالی ہاتھ بن جاتا ہے یعنی کہ اس کا ہاتھ
بھی صرف خیر کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے
اس کے ٹانگیں بھی صرف خیر کے کاموں
میں چلتی ہیں اس کا دماغ بھی صرف
خیر کے کاموں میں چلتا ہے وہ برائی
سے اللہ تعالی اس کی حفاظت کر لیتا ہے
دنیاوی اعتبار سے بھی
اور دینی اعتبار سے بھی
یہ ترجمہ ہے احفظ اللہ تجدو چجاہک
جب تم اللہ کی حفاظت کرو گے
اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے
اور ان سارے
فارملے بتانے کے بعد
اب اگلی بات فرمای
وَإِذَا سَأَلْتَ فَسْأَلِ اللَّهِ
بیٹے جب بھی سوال کرو
سوال کرنا انسان کی ضرورت ہهِ بیٹے جب بھی سوال کرو سوال کرنا انسان کی ضرورت ہوتی ہے
لیکن جب بھی سوال کرو
فَسْأَلِ اللَّهِ
صرف اللہ سے سوال کرو
این توحید یہاں پر سمجھا دی
صوبان
مولا ہیں وہ روایت کرتے ہیں
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
فرمایا کہ کوئی مجھے گارنٹی دے
کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا
میں اس کو جنت کی گیارنٹی دیتا ہوں
وہ کہتے ہیں میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
فرمایا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
میں گیارنٹی دیتا ہوں کہ میں اللہ کے علاوہ
کسی سے سوال نہیں کروں گا
اور وہ کسی سے سوال نہیں کرتے تھے
یہ ایسے لوگ تھے
کہ اگر ان کی چھڑی بھی گر جائے کرتی تھی
تو یہ سواری سے اتر کے خود چھڑی اٹھائے کرتے تھے
کسی نے ان سے پوچھا
کہ بھائی آپ ہم سے کہتے تھے
ہم اٹھا کے دیتے تھے آپ کو
میں کہا نہیں ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
یہ عہد کر رکھا ہے
کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں مانگیں
چھوٹی سی چیز جائز ہے
فیما یقدر و علی فیما لا یقدر و علی
آپ کے علم میں ہے
کہ جس چیز کی انسان قدرت رکھتا ہو
اس سے اس چیز کا سوال کرنا جائز ہے
دونوں چیزوں میں فرق ہے
ایک بندہ قدرت نہیں رکھتا
میں اس سے سوال کروں
مجھے بیٹا دے دے
مجھے مال دے دے
وہ قدرت ہی نہیں رکھتا
تو یہ تو شرک ہو گیا
ایک بندہ قدرت رکھتا ہے
اس کے پاس موجود ہیں سو روپے
میں اس سے کہہ رہا ہوں
مجھے دس روپے دے دے
وہ قدرت رکھتا ہے
یہ سوال جائز ہے
تعاونو علی البری و تقوی
نیکی کے اندر
تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود
سوال کرنے سے جن کو
منع کیا گیا ہے
وَإِذَا اسْتَعَلْتَ فَاسْعَلِ اللَّهِ
جب بھی سوال کرو صرف اللہ سے سوال
یہ وہ فومیولا ہے انسان اگر سمجھ لے
یہ توقل کا
اعلیٰ میار ہے کہ انسان
اللہ کے علاوہ کسی سے کوئی سوال نہ کرے
اور اگلی بات وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب بھی سوال کرو
مدد مانگو صرف اور صرف
اللہ سبحانہ وتعالی سے مدد
الاسطعانہ والاستغاثہ مدد مانگنا
غیر اللہ سے جائز
نہیں ہے
ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب
کے اندر لکھتے ہیں
کہ جتنی آسمانی کتابیں ہیں
ان آسمانی کتابوں کا خلاصہ
تورات انجیل اور قرآن
تین کتابوں کے اندر موجود ہیں
اور جتنا ان تینوں کتابوں
کے اندر ہے وہ سارے موازی
اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر
جمع کر دیا ہے اور جو کچھ
قرآن مجید کے اندر موجود ہے
وہ سب کچھ اللہ سبحانہ وتعالی نے
جس سور قاف کے بعد
والی چھوٹی سورتیں ہیں ان کو مفصل کہا جاتا ہے
ان کے اندر
اللہ تعالی نے وہ چیزیں جمع کر دی ہیں
اور جو کچھ ان کے اندر ہے
اللہ تعالی نے سور فاتحہ کے اندر
اس کا خلاصہ بیان کر دیا ہے
اور جو کچھ سورة الفاتحہ کے اندر ہے
وہ اللہ سبحانہ وتعالی نے
ایک آیت
ایاک نعبدو و ایاک
نستعین کے اندر بند کر دیا ہے
اور ان کی یہ کتاب جس میں
انہوں نے عبارت لکھی ہے وہ
کتاب ہی
اسی آیت ایاک نعبدو
و ایاک نستعین کی اشارہ لکھی ہے
دو وولیوم کے اوپر
بارہ سو صفات کی کتاب لکھی ہے
صرف ایاک نعبدو
و ایاک نستعین
جو آپ اور میں
ہر روز
ہر نماز کے اندر
سور فاتحہ پڑھتے ہوئے
اللہ سبحانہ وتعالی کے ساتھ
کمیٹمنٹ کرتے ہیں
کہ اللہ ہم صرف
تیری ہی عبادت کرتے ہیں
اور تجھ ہی سے
مدد طلب کرتے ہیں
یہی خلاصہ ہے
اگر انسان سمجھ جائے
اور اس کے بعد
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قائدہ
اور بیان کیا کہ
اے بیٹے جان لو
کہ اگر پوری امت
جمع ہو جائے ساری انسانیت
جمع ہو جائے تمہیں فائدہ پہنچانے
کے لئے تو تمہیں فائدہ اس وقت
تک نہیں پہنچ سکتا
جب تک اللہ سبحانہ وتعالی نے
تمہارے لئے وہ فائدہ مقرر
نہ کر دیا ہو
اور یہ بھی جان لو کہ اگر پوری
امت جمع ہو جائے
تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے
تو تمہیں نقصان نہیں پہنچ سکتا
جب تک کہ اللہ تعالی نے
تمہاری تقدیر میں نہ لکھ دیا ہو
اور تقدیر کے اوپر ایمان لانا انتہائی ضروری ہے
آخری بات فرمایا
رفعت الاقلام و جفت صحف
قلم جو ہے تقدیر لکھی جا چکی ہے
اللہ کے نبی کی حدیث ہے
سب سے پہلے اللہ تعالی نے قلم پیدا کیا
اور قلم کو حکم دیا کہ ساری تقدیر لکھ دو
تو جو کچھ ہونا ہے جیسا ہونا ہے
وہ سب لکھا جا چکا ہے
اور صحف سوک چکے ہیں
اب کوئی چینجنگ نہیں ہونی
جب آپ اس بات کو سمجھ لیں گے
اس فارمیلے کو سمجھ لیں گے
کہ جو کچھ ہو رہا ہے
اچھا یا برا
یہ اللہ کی تقدیر سے
اللہ کی مرضی سے
اللہ کی مشیط سے ہو رہا ہے
تو آپ اس کے اوپر
صبر کرنے والے بن جائیں گے
اور یہاں پر
کچھ صحابہ کے ذہن میں شکال آیا
جو کہ عام عمومی طور پر
لوگوں کے ذہن میں آتا ہے وہ سوال کرتے ہیں
کہ بھائی جب سب کچھ لکھا ہے تو عمل کرنے
کا کیا فائدہ ہے تو اللہ کے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا گیا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اعملو
فکلو مویسرن
لما خلقالا عمل کرو
ہر کسی کے لئے وہ چیز آسان ہے جو
اس کے لئے لکھ دی گئی ہے اور یہ بھی
تقدیر کے اندر لکھا ہوا ہے
کہ آپ برے تھے
لیکن آپ نے دعا کی
آپ نے توبہ کری
آپ نے استغفار کیا
آپ نے وہ ازباب اختیار کیا
جس کے ذریعے سے حسن خاتمہ ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ آپ کو اند میں حسن خاتمہ نصیب کر دے گا
یہ بھی تقدیر کے اندر لکھا ہوا ہے
جو کہ درائٹ تقدیر ہے
اسی سے علماء نے تقدیر معلم تقدیر معلق نکالی ہے
وقت نہیں ہے کہ اس کو ایکسپلین کیا جائے
لیکن یہ کہ ہمیں اتنا سمجھ لینا چاہیے
کہ تقدیر پر ایمان لانا
ہمارے لئے ضروری ہے
سب کچھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے
اس کی خلق سے اس کی تقدیر سے
اس کے علم کے مطابق ہوتا ہے
اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے انجام
کو پہلے سے جانتا ہے
ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے
کہ ہم عمل کریں تو ہمیں حفاظت کا حکم ہے
عمل کا حکم ہے
ہمیں عمل کرنا ہے
اقول قول ہذا وستخفراللہ لی و لکم
ورسائل المسلمین من کل ذم
انہو والغفور الرحیم
الحمدللہ
الحمدللہ علیہ السلام
وشکر لہو علیہ على توفيقه وامتنانه
وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له تعظيما لشانه
وأشهد أن سيدنا محمد عبده ورسوله الداعي إلى رضوانه
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم
إنك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد
كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم
وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
ربنا آتنا في الدنيا حسنة
وفي الآخرة حسنة
وقنا عذاب النار
رب ارحمهما كما ربياني صغيرا
رب ارحمهما كما ربياني صغيرا
اللهم اشفي مرضانا ومرض المسلمين
اللهم اشفي مرضانا ومرض المسلمين اللہم شفی مرضانا و مرض المسلمین
اللہم عافی مبتلانا
آپ لوگوں کے علم میں ہیں
وبائی امراض اس وقت پھیلے ہوئے ہیں
ڈینگی اور چکن گونیا
اور منکی پوکس اور پتہ نہیں
کون کون سی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں
اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا کریں
اللہ تعالی تمام لوگوں کو شفاہ کاملہ
تمام بیماروں کو شفاہ کاملہ
اور عجل نصیب فرمائیں
اور مومن کے لئے در حقیقت
یہ بیماریاں بھی عجر کا باعث ہوتی ہیں
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
تہور انشاءاللہ یہ گناہوں کو پاک کرنے والی ہیں
تو صرف مومن کے پاس یہ پلس پوائنٹ ہے
کہ وہ اس بیماری پر بھی
اللہ کا شکر ادا کر سکتا ہے
سبر کرنے کے ذریعے اپنے عجر میں اضافہ کر سکتا ہے
کافر کے پاس تو اس بیماری کی
تکلیف کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے
تو الحمدللہ اللہ تعالی نے
ہمیں ایمان کی نعمت دی ہے
اس پر اللہ کا شکر ادا کیجئے
اللہ تعالی ہمارے بیماروں کو شفاع کامل
عجل عطا فرمائے جو لوگ پریشان ہیں
ان کی پریشانیوں کو اللہ تعالی دور فرمائے
عباداللہ
رحمکماللہ وإيطاء ذي القربة وينهان الفحشاء والمنكر والبغ يعيدكم لعلكم تذكرون
واذكروا الله يذكركم ودعوه يستجب لكم
ولذكروا الله أكبر
والله يعلم ما تسنعون
أقم الصلاة
الله أكبر
الله أكبر
أشهد أن لا إله إلا الله
أشهد أن محمد