اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو
اخلاق نبوی کے درخشاں پہلو
شیخ داود شاکر حفظہ اللہ
مسجد رحمان
جمعہ خطبہ
؛ 18 اکتوبر 2024
Khutba text transcribed without editing:
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سجئات أعمالنا من يهده الله فلا مزل له ومن يزلله فلا حادي له وأشهد الله إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبس منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سبيلا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم زنوبكم ومن يدعي الله ورسوله فقد فاز فوزا عزيما ماهي رب العول سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا بیان شروع کیا ہے اس حوالے سے دو اہم ترین موضوع بیان ہو چکے ہیں ایک دین اسلام میں اخلاق حسنہ کی اہمیت اور دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی اخلاق کا تذکرہ آج ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آپ کے اخلاق حسنہ کے حوالے سے چیدہ چیدہ باتیں عرض کرتے ہیں مثلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توازو اور انکساری اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا افوہ در گزر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم دلی و حسن سلوک اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحم دلی اور شفقت اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش تدی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احسان شناسی وغیرہ وغیرہ یہ اخلاق حسنہ کے انتہائی اعلیٰ امور ہیں انہی چیزوں سے اخلاق بنتا ہے اور انہی امور سے کوئی انسان اچھے اخلاق کا مالک بنتا ہے تو آئی آغاز کرتے ہیں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توازو اور انکساری کا سیرت النبی کی اس دور میں اردو زبان میں بڑی معروف کتاب ہے الرحیق المختوم صاحب الرحیق المختوم صاحبِ الرحیق المختوم وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توازو اور انکساری کا اجمالی خاکہ اجمالی خاکہ ان الفاظ کے ساتھ بیان کرتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ متوازع یعنی منقصر المزاج تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقبر سے بالکل دور تھے اور پاک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غربہ اور مساکین بیماروں کی آیادت تک کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقرہ اور غربہ کے ساتھ بیٹھ جایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں تک کی دعوت کو قبول کر لیتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں عام انسانوں کی طرح بیٹھتے تھے کوئی خاص تمیز اور تشخص قائم نہیں ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھوٹے موٹے کام خود اپنے ہاتھوں سے کر لیا کرتے تھے مثلا کپڑے کو پیوند لگانا ٹوٹی جوتی کو گانٹ لینا مثلا بکری کا دودھ دھو لینا وغیرہ وغیرہ وغیرہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توازن تھی وگرنا آپ کی صدمت کے لیے آپ کی ازواج ہما وقت تیار تھی آپ کی صدمت کے لیے آپ کے صحابہ ہما وقت تیار تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قصر نفسی توازن اور انکساری کا یہ مختصر خاکہ صاحبِ الرحیق المختوم نے کھینچا ہے آئیے اس حوالے سے چند حدیثیں سنیے چار حدیثیں آپ کے سامنے عرض کرتے ہیں سب سے پہلی بڑی معروف حدیث ہے آپ سینکڑ دفروف حدیث ہے آپ سیکڑ دفعہ سن چکے ہیں ہم سے اس مناسبہ سے سنیے سیدہ عیشہ صدیقہ سے پوچھا گیا ما کانن نبی صلی اللہ علیہ وسلم یسنو فی بیتی ہی اللہ کے نبی سسلم اپنے گھر میں ہوتے کیا کرتے تھے گھر میں ہوتے کیا کرتے تھے گھر کے معامل کیا تھے گھر کی کیا کیفیت تھی دنیاوی امور کے حساب سے تو فرماتی ہیں اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے رہتے تھے جس کو ہم عرف میں کہتے ہیں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے یا اگر کوئی ایسا کام ہوتا کہ اللہ کے رسول اس میں ہماری مدد کر سکتے ہوتے ہاتھ بٹا سکتے ہوتے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مدد کرتے اس کام میں شامل ہو جاتے ہمارا ہاتھ بٹاتے یہ صحیح بخاری کیدد کرتے اس کام میں شامل ہو جاتے ہمارا ہاتھ بٹھاتے یہ سعی بخاری کے حدیث ہے مصند احمد کے ایک حدیث ہے وہ سنیے وہ بھی انہی سے سوال ہوا سید عائشہ صدیقہ سے رضی اللہ عنہ یہ بتائیے کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کوئی کام کاج گھر کے چھوٹے موٹے کام کاج کر لیا کرتے تھے کالت تو سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ہاں کیوں نہیں سنیں ذرا جوتی ٹوڑ جاتی اپنی جوتی کو خود گانٹ لیتے تھے و یخیت سوبہو کپڑا پھٹ جاتا اس کو خود سی لیتے تھے و یامل فی بیتی کما یامل آدکم فی بیتی گھر میں اس طرح گھر کے چھوٹے موٹے کام کر لیتے تھے جس طرح سب لوگ اپنے گھروں میں چھوٹے موٹے کام ا لیتے تھے جس طرح سب لوگ اپنے گھروں میں چھوٹے موٹے کام اپنے ہاتھوں سے کر لیتے ہیں یہ کائنات کے سردار ہیں اللہ کے رسول اسوہ ہیں نمونہ ہیں ہر ہر ہر ہر ہر معاملے میں ہر ہر شعبے میں تیسری حدیث سعید بخاری کی ہے سیدہ انس کہتے ہیں انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں خدمت کی سانا یمور بس سبیان فیسلیم علیہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اگر بچوں پر ہوتا تو آپ رکھ کے بچوں کو سلام کہتے السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکھ کے بچوں کو سلام کہتے ہیں السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ بچوں کو سلام کہتے ہیں چوتھی حدیث ابو دعوت کی ہے سجدنا ابو امامہ کہتے ہیں خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقمنا فقال لا تقوموا كما يقوم العاجب یعزم بعضهم بعضا ابو ماما کہتے ہیں ہم ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے یا محجل میں بیٹھے ہوئے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے آئے جیسے گھر سے نکلے ہم کھڑے ہو گئے ہم کھڑے ہو گئے ہم کھڑے ہو گئے آپ کو دیکھ کر آپ نے فرمایا لا تکومو اس طرح مجھے دیکھ کے کھڑے نہ ہوا کرو کما یکومو لعاجم جس طرح عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں اپنے بادشاہوں کے لئے کسی مجلس میں بیٹھے ہوں مجلس لگی ہو ان کا بادشاہ جب داخے ہوتے ہیں اپنے بادشاہوں کے لئے کسی مجلس میں بیٹھے ہوں مجلس لگی ہو ان کا بادشاہ جب داخل ہوتا ہے سب اپنے اپنی جگہ پہ دس بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں فرما یہ عجمیوں کا طریقہ ہے یہ میرا طریقہ نہیں ہے اللہ کے رسول نے یہ توازو اور انکساری کے طور پر یہ بات کہی کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے اس بارے میں اور بھی بہت ساری حدیث ہیں ایک ہے کسی کے استقبال کے لیے کھڑا ہونا پہلی دفعہ مل رہے ہیں کوئی آپ کے پاس آیا ہے آپ کسی کا استقبال کر رہے ہیں جسے استقبال کہتے ہیں اس کا الگ سے ایک حدیث میں ثبوت موجود ہے ایک ہے اپنی جگہ پر بت بن کے کھڑے ہو جانا اور جب تک وہ صاحب بیٹھے نہیں کوئی نہ بیٹھے یہ ایک انداز اللہ کے رسول کو پسند نہیں تھا اور اگر صاحبہ نے آپ کے عذب و احترام میں اس کو اختیار کیا تو آپ میں توازو تھی آپ خوش نہیں ہوئے اس کو برقرار نہیں رکھا کہ میری تعظیم ہو رہی ہے آپ نے ان کو بٹھا دی یہ ایک نکتہ تھا دوسرا نکتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اف و در گزر یہ اخلاق کی انتہائی اعلی چوٹی ہے آپ اف و در گزر سے کام لیں سرف نظر کر دیں چھوٹی باتیں چھوڑ دو اف و درگزر سے کام لیں صرف نظر کر دیں چھوٹی باتیں چھوڑ دو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں معاف کر دو درگزر کر دو صرف نظر کر دو یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تھی چنانچہ سید عائشہ فرماتی ہیں سید بخاری مسلم کے حدیث ہے من تقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لنفسه فی شئین قطع الا انتن تاکم مہارم اللہ فین تقم بہا للا فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا یہ ہے افوہ درگزر ہم تو دلوں میں بغض پال کے بیار جاتے ہیں کوئی موقع ملتے ہیں ڈنگ مار دیتے ہیں بظاہر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے معاف کر دیا لیکن دل سے معاف نہیں کرتے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا ہاں اگر اللہ کی حرمت کو پامال کیا جاتا دین کی کسی حد کو پامال کیا جاتا تو پھر اللہ کے رسول اللہ کے لیے انتقام لیتے تھے فَيَنْتَكِمُوا بِحَالِ اللَّهِ اس جرم کا انتقام لیتے تھے فَيَنْتَكِمُوا بِهَا لِلَّهِ اس جرم کا انتقام لیتے تھے اللہ کے لئے کہ اللہ کی حرمت کو پامال کی ہے دوسری حدیث یہ بھی سجید عائشہ کی ہے یہ بھی بخاری مسلم کی ہے کہتی ہیں مَا ذَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّىٰ سَلَّمَا خَادِمًا لَهُ وَلَا اِمْرَاتًا وَلَا ذَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا اِلَّا اَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خادم لہو ولا امراتا ولا ذرب بیدہ شیئن الا ان یجاہد فی سبیل اللہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کبھی اپنے کسی نوکر کو خادم کو غلام کو جو اس دور میں ذر خرید ہوتے تھے آج کے نوکر چاکر نہیں یہ تو آزاد ہیں ذر خرید غلام فرمائے کبھی کسی غلام اور لونڈی کو نہیں مارا اپنی کسی بیوی کو نہیں مارا اپنے ہاتھ سے کسی کو بھی نہیں مارا کسی جانور کو بھی نہیں مارا مگر یہ کہ جہاد فی سبیل اللہ کر رہے ہوں جہاد فی سبیل اللہ ہے دشمن سامنے ہیں پھر دشمن اللہ کے رسول کے سامنے آ جاتا پھر وہ بچ کے نہ جاتا اللہ اکبر دو چھوٹے سے واقع سنیے ایک بڑا مشہور قصہ ہے سفر تعفقہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ زندگی کے آخر میں مکہ والوں سے جب ایک ظاہری اعتبار سے بندہ مایوس ہو جاتا ہے یہ ایمان نہیں لارہے دعوت و تبلیغ کا ان میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا تو آپ طائف گئے تھے پہاڑی کا سفر بڑا کٹھن سفر بڑا مشکل سفر تیہ کر کے گئے تھے پورا قصہ ہے ہم اس قصے کو بیان نہیں کرتے کئی دفعہ بیان کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی خدمات کی مناسبت سے آپ جانتے ہیں کہ سفر میں مکہ والوں سے بھی طائف والوں نے بتر سلوک کیا خود پتھر مارے اپنے عباش بچوں کو پیچھے لگایا انہوں نے پتھر مارے لہلوہباش بچوں کو پیچھے لگایا انہوں نے پتھر مارے لہلوہان کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ پریشان بیٹھے ہیں صاحب سے باہر انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں اسی موقع پہ جاء ملک الجبال پہاڑوں کا فرشتہ آیا صویل قصہ ہے جبریل نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے اس فرشتہ آیا صویر قصہ ہے جبریل نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے اس فرشتے کو بھیجا ہے یہ پہاڑوں پر مسلط ہے اللہ کا پیغام لے کر آیا ہے اس فرشتے نے کہا مجھے اللہ نے بھیجا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کے بھیجا ہے جائیں جا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں اگر وہ انتعاف والوں کو سزا دینا چاہیں اور آپ کو حکم دیں کہ پہاڑ کو زمین سے اٹھا کے اوپر لے جا کے طاف والوں پر گرا دو اور ان کو پیس کے رکھ دو اگر اللہ کی رسول ہمارے حبیب ان سے یہ انتقام لینا چاہیں تو آپ یہ کر گزرو جی میں حاضر ہوں آپ کا کیا حکم ہے اگر آپ حکم دیں ہمیں طائف والوں کو پہار کے بیچ میں پیس کے رکھ دیں افو ذر گزر کے پیکر اعلی اخلاق کے مالک کیا فرمایا بل ارجو ان یخرج اللہ من اسلابیم من یعبد اللہ وحدہ ولا يشرک به شیعا اَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَسْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيَّا میں ان کی ہلاکت اور بربادی نہیں چاہتا یہ ایمان نہیں لاتے تو کیا ہوا امید ہے مجھے کہ ان کی نسلوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو ایمان لے آئیں گے مجھے امید ہے کہ ان کی نسلیں ایمان لے آئیں گی اس لئے میں ان کی بربادی نہیں چاہتا ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ میری قوم کو ہدایت دے یہ میرے مقام اور مرتبے کو نہیں جانتے یہ اف اور در گزری ہمارے ساتھ تو ایسا کوئی معاملہ بھی نہیں ہوتا کسی نے پتھر نہیں مارے ہوتے کسی نے کوئی اتنا نقصان اور تکلیف اور اس قدر بے عزت نہیں کیا ہوتا پھر بھی ہم معاف کرنے کے لئے تیار ہیں اور نام لیتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے زہر محبت کرتے ہیں انہیں اللہ نے ہمارے لئے نمونہ بنایا ہے عقیدے میں بھی نمونہ ہیں عبادت میں بھی نمونہ ہیں تعلق باللہ بھی نمونہ ہیں حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی نمونہ ہیں عبادت میں بھی نمونہ ہیں تعلق باللہ میں بھی نمونہ ہیں حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی نمونہ ہیں اور ساتھ میں لوگوں کے ساتھ سلوک اور روئیے میں بھی نمونہ ہیں سبحان اللہ ایک اور چھوٹا سا قصہ ہے بلکہ ایک حدیث ہے عبداللہ بن مسود کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واضح کر رہے تھے اس واضح میں آپ نے ایک نبی کا ذکر کیا کہ لوگو ایک اللہ کا پیغمبر تھا ایک اللہ کا نبی تھا اس کی قوم نے اس کو پتھر مارے حقہ کہ اس کے سر اور چہرے سے خون بہ رہا تھا اور وہ پیغمبر خون آلود جسم کے ساتھ کہہ کیا رہا تھا خون کو اپنی پیشانی سے اپنے موں سے اپنے آنکھوں سے پونج رہا تھا اور ساتھ میں کہہ رہا تھا اللہم مغفر لے قومی فإنہم لا يعلمون یا اللہ میری اس قوم جنہوں نے مجھے پتھر مارے ہیں انہیں بحث کر دینا ان کو میرے مقام اور مرتبے کا علم نہیں ان کو میری نبوت اور شان کا علم نہیں میری دعوت کی اہمیت کو نہیں جانتے کہ میں ان کا خیر کھا ہوں یا اللہ یہ جاہل ہیں یہ لا علم ہیں ان پہ نراض نہ ہونا ان سے انتقام نہ لینا یہ میری قوم ہے یہ مجھے نہیں جانتی آج نہیں تو کل جان لے گی یہ نہیں ان کی نسلیں جان لے گی عبداللہ بن مسود رضی اللہ تعالی نے یہ کہتی اور پھر کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے یہ بات ایک عام نبی کے نام سے کہی لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ اس سے مراد خود اللہ کے نبی سسلم خود تھے خود اپنے بارے میں کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ یہ صلوک ہوا تھا لیکن میں رحمت بن کر آیا ہوں میں نے اپنی قوم کے لئے بددعا نہیں کی تم بھی بددعا نہ کرنا سی بخاری میں ایک قصہ ہے یہ والی عدیث بھی سی بخاری میں تھی اوپر والا جو قصہ تھا ملک الجوال کا وہ بھی سی بخاری میں تھا یہ ایک تیسرا چھوٹا سا قصہ یہ بھی سی بخاری میں ہے چنانچہ یہ قصہ یہ ہے یہ اعلیٰ اخلاق کی عظیم ترین مثال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ جا رہے ہیں ایک دیہاتی بددو جی سے کہتے ہیں ان میں رکھ رکھاؤ کم ہوتا ہے عدب عذاب کم ہوتا ہے عدب عذاب کی کمی ہوتی ہے کچھ لوگ ہوتے ہیں ان میں عدب عذاب کی کمی ہوتی ہے مروت اور اخلاق کی کچھ کمی ہوتی ہے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو درگزری کا نرمی کا ان کو اپنے جیسا نہ سمجھو جیسے آپ رکھ رکھاؤ عدب عذاب آپ اور آپ کر کے بات کرتے ہیں آئیے بیٹھئے آئیے بیٹھئے کر کے بات کرتے ہیں آپ عام آدمی سے یہ توقع نہ رکھیں وہ بیچارے عام ہیں وہ کسی قسم کی کمی کتاہی کا شکار رہ سکتے ہیں ان کو یہی سمجھو کہ ان کو ان عدب آداب کا علم نہیں ہے ان کے ساتھ اسی چیز کو سامنے رکھ کے صدوق کرو چنانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے ایک دیہاتی آیا اور اپنی چادر چادر پہلیہ وسلم جا رہے تھے ایک دیہاتی آیا اور اپنی چادر چادر پہلے لوگ بہت رکھتے تھے ردا کے طور پر ویسے کندے پر رکھتے تھے چادر کو بل دیا اور یوں ڈالا گلے میں اور پھر چادر کے دونوں حصوں کو بل دینا شروع کر دیا زور سے بل اور زور سے کھینچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرتے گرتے بچے آپ کی یہاں گردن پہ نشان پڑ گئے چادر کے داغ پڑ گئے لال رنگ کے اور وہ یعنی دھاری دار چادر تھی تو وہ نشان پڑ گئے آپ گرتے گرتے بچے پریشان ہوئے مڑ کے دیکھا اللہ اکبر مڑ کے دیکھا اے غلام ایک عام آدمی ہے مر کے دیکھا اللہ اکبر مر کے دیکھا اے غلام ایک عام آدمی ہے غلام کو دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے مسکرا دیئے پھر پوچھا کیا مسئلہ ہے کیوں ایسا کر رہے ہو کہنے لگا مر لی من مال اللہ اللہ اندکا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس مختلف جگہوں سے مال غنیمت کا مال جمع ہوتا ہے تو مجھے بھی اس مال میں سے حصہ دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ کر مسکراتے رہے سمع امرالہو بالعطا فی صحابہ کو کہا اسے بھی کچھ دے دو یہ در گزری یہ لا علم لوگ جاہل لوگ جن میں کچھ مروت کی کمی ہوتی ہے جن میں رکھ رکھاؤ کی کمی ہوتی ہے تو ان سے در گزر کیا کرو سرف نظر کیا کرو یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے یہ ان کا طریقہ ہے یہ ان کا اخلاق ہے یہ نہیں کہ دشمنی پال لو بلکہ معاملے کو ایک مسکراہت کے ساتھ خوشگوار محل میں بدل جو جیسے کچھ ہوا بھی نہیں ہے دو باتیں ہو گئی تیسری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور حسن سلوک سبحان اللہ نرمی اور حسن سلوک اس کے لئہ نرمی اور حسن سلوک اس کے لئے ایک ہی قصہ بیان کرتے ہیں بڑا معروف قصہ یہ بھی اور یہ قصہ صحیح مسلم میں ہے اب یہ قصہ بھی تقریباً آپ سب جانتے ہیں ایک دیہاتی مسجد میں آیا مسجد کی دیواریں چھوٹی تھی دیوار بھی چھوٹی تھی دروازے بھی نہیں تھے کھلی رہتی تھی آیا اور اس طرح کی سنگ مرمر اور یہ کالین اور یہ دریان اور یہ ساری چیزیں نہیں تھی ابتدائی دور تھا وہ آیا مسجد میں تھوڑی دیر میں اس کو پشاب کی حاجت محسوس ہوئی تو مسجد کی چار دیواری کے کونے میں یا واللہ علم مسجد کی جو نماز کی جگہ ہے اس کے کونے میں بیٹھ کے پشاب کرنا شروع کر دیئے کچھی مسجد ہوتی تھا صحابہ دوڑے اٹھے اس کو روکنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا تزرموہ دعوہ اس کا پشاب اب مت روکو اس کو چھوڑ دو اس کو پشاب کرنے دو اب یہ پریشان الگ ہوگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے کیوں روک رہا ہے اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ میں کوئی گناہ کا کام کر رہا ہوں کوئی غلط کام کر رہا ہوں دوسرا اس کے کپڑے خراب ہوں گے پلیدی اور پھیلے گی اکلمندی اور دانائی کا تقاضی یہی تھا فرمایا نہ اس کا پشاب روکو چھوڑ دو اس کو اس نے پشاب کر لیا فارغ ہو کے آیا آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا اِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِلَةِ لَا تَسْلُحُ لِشَئِن مِنْ هَذِ الْبَوْلِ وَلَلْقَذْرِ اِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ وَقِرَاطِ الْ ذکر اللہ والصلاة وقراط القرآن بٹھایا فرمے اللہ کے بندے یہ جو مسجدیں ہیں نا یہ بول و براز کی جگہ نہیں ہے یہ گندگی پھیلانے کی جگہ نہیں ہے یہ نماز کی جگہ ہیں یہ دعاوں کی جگہ ہیں یہ قراط قرآن اور ذکر کی جگہ ہیں جہادہ مسجدوں میں یہ بولو براز نہ کیا کرو اتنا کچھ کہا اس کو پھر آپ نے کسی کو کہا جاؤ پانی کا ڈول لے کر آؤ پانی کا ڈول لائیا فرمے جاؤ اس پانی کو اس کے اوپر بہا دو اس کو بھی نہیں کہا چلو جاؤ جا کے صفائی کرو یہاں آئے روز مسجدوں میں شور ہو رہا ہوتا ہے انتظامیہ امام معزن وہ نئے اور اجنبی لوگوں کو جن بیچاروں کو مسجد کے عدب آداب کا علم نہیں کچھ شہد تہلی دفعہ آئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو عدب آداب کا علم نہیں ہوتا ان کو ڈانٹ رہے ہوتے ہیں برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں ہاتھ پکڑ کے مسجعہ آئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو عدب آداب کا علم نہیں ہوتا ان کو ڈانٹ رہے ہوتے ہیں برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں ہاتھ پکڑ کے مسجد سے نکال رہے ہوتے ہیں دھکے دے رہے ہوتے ہیں کوئی بیچارہ کوئی غلطی کر بیٹھے لا علمی کی وجہ سے سب اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ایندہ وہ مسجد کا نام لینا ہی بھول جاتا ہے یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہے غلطی کتنی بڑی لیکن اللہ کے رسول نے کس قدر درگزری سے کام لیا آپ کی رحم دلی اور شفقت پر بات کر لیتے ہیں رحم دلی اور شفقت سبحان اللہ ایک کسی چھوٹے سے سفر میں تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بھی اللہ کے رسول کہیں دور تھے ہوا یہ کہ وہاں ایک پرندے کا گھونسلہ تھا صحابہ کو وہ پرندے کے بچے چھوٹے چھوٹے نظر آگئے چھوٹے چھوٹے جو اڑ نہیں سکتے تھے لیکن زمین پر اچھل کود کر سکتے تھے اب یہ بندے میں ایک خوش طبیعی ہوتی ہے ان بچوں کو پکڑ لیا اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں دیکھ رہے ہیں اپنے پاس پکڑ لیا اب وہ پرندہ آیا اس کی ماں آئی ان پرندوں کی ان بچوں کی اس نے دیکھ لیا کہ بچے ان کے پاس ہیں اب وہ اوپر مندل آ رہی ہے اور اپنی آواز میں مقصوص آواز میں اپنے دکھ کا غم کا یا التجا کا اظہار کر رہی ہے اتنے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے آپ نے یہ دیکھا کہ یہ پرندہ یہ ان بچوں کی ماں پرندوں کے یہ ماں یہ لگتا ہے کہ اس کے بچوں کو کسی نے اٹھا لی ہے فہچان نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اس بے چینی اور بے قراری کو آپ نے فرمایا لگتا ہے تم نے اس کے بچوں کو اٹھا کے اس کی مامتہ کو پریشان کر دیا صاحبہ نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا جاؤ ان بچوں کو وہیں چھوڑاؤ جہاں سے تم اٹھا کے آئے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک پرندے کی بے چینی بے کراری اس کا ذکر اس کا غم وہ بھی برداشت نہیں ہوا آپ نے فرمایا جاؤ جا کر ان پرندوں کو بچوں کو وہیں پر رکھ کے آؤ ابودعود کی حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمانہ تھا قیدیوں کا قیدی آتے تھے قیدیوں میں عورتیں ہوتی تھی ان کے بچے ہوتے تھے مرد ہوتے تھے بچے ہوتے تھے اور ان کی تقسیم ہو جاتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو ماں کو اور اس کے بچوں کو وہ غلام اور لونڈیاں قیدی ہوں غلام اور لونڈیاں ہیںوں قیدی ہوں غلام اور لونڈیاں ہیں تو ان کو الگ الگ نہ کرو کسی ایک شخص کو دو ایک شخص ان ماں اور اس کے بچے کو اپنے پاس رکھیں اس کو لونڈی بنا کر دھیبہ نہ کرے تقسیم نہ کرے ایک کو بیچے اور دوسرے کو نہ بیچے ایسا نہ کرے حتیٰ کہ فرمایا قیدی جو جنگ میں قیدی ہو جاتے تھے وہ جب تک فیصلہ ہوتا ایک دن دو دن دس دن مہینہ جب تک فیصلہ ہوتا کہ ان کا کیا کرنا ہے فرمایا ان قیدیوں میں ماں اور اس کے بچوں کو الگ نہ کرنا ماں کی یہ بیچینی یہ بکراری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھی کہ ماں پر کس قدر یہ چیز گران گزرتی حالانکہ وہ کون ہیں وہ کافر ہیں مشرق ہیں قیدی بن کے آئے ہیں دشمنوں کا خاندان ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جو ایک انسانیت تھی اور ایک نرمی تھی اور ایک حسن سلوک تھا اس کے تقاضے کے پیش نظر اور رحم دلی اور شفقت تھی آپ نے فرمایا ماں اور اس کے بچوں کو الگ نہ کرو وہ غلام و لونڈیا ہوں یا وہ قیدی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان سنیں جو آپ کی رحم دلی اور شفقت پر دلالت کرتا ہے سی مسلم میں حدیث ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ان اللہ ق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ان اللہ قطب الاحسان اللہ تعالی نے احسان یعنی حسن سلوک اچھا برتاو دوسروں کا خیال رکھنا اس چیز کو فرض کر دیا ہے ان اللہ قطب الاحسان لکھ دیا ہے اپنے دین اور شریعت میں فرض کر دیا ہے علا قل شائن ہر ہر معاملے میں ہر ایک کے بارے میں حسن سلوک کرو فرمے حتیٰ کہ اذا زباہتم فآسن الزباہ وَلْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحِرْ زَبِیحَتَهُ دیکھو جب کسی جانور کو زبا کرو کہ تمہیں اس کے گوشت کی ضرورت ہے اللہ نے اسے تمہارے لئے حلال کیا ہے تمہارے کھانے کے لئے بنایا ہے اب تم زبا کرو تو حسن سلوک کرو اچھے طریقے سے زبا کرو کم سے کم تکلیف پہنچاؤ اللہ اکبر کم سے کم تکلیف پہنچاؤ اللہ اکبر کم سے کم تکلیف پہنچاؤ جیسا کہ ایک حدیث میں جہلیت میں لوگ اپنی جہالتوں کی وجہ سے وہ جب انہوں نے کسی خیرن کو بکری کو کسی اور جانور کو زبا کرنا ہوتا تو تھوڑا شغل میلہ لگا لیتے تھے اس کو دور سے باندھیا ایک بڑی رسی کے ساتھ اس کو کھانا تو تھوڑا شغل میلہ لگا لیتے تھے اس کو دور سے باندھیا ایک بڑی رسی کے ساتھ اس کو کھانا تو ہم نہیں ہی ہے تھوڑا شغل میلہ ہو جائے پھر دور سے اس پہ تیر اندازی کرتے وہ ہرن وہ بکری وہ دنبا بھاگتا یہ اس پہ تیر چلاتے بھاگتے ہوئے پہ تیر دوڑتے ہوئے پہ تیر اپنا نشانہ درست کرتے پھر ہستے اور ٹھٹھا مارتے اور مزاک�تے ہوئے پہ تیر اپنا نشانہ درست کرتے پھر ہستے اور ٹھٹھا مارتے اور مزاک کرتے یہ ان کا طریقہ تھا پھر جب دیکھتے کہ وہ اب قریب المر گئے جا کے چھوڑی پھیر لیتے اس کا اپنے لئے حلال کر لیتے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما خبردار ایندہ کوئی کسی جانور کو اس طرح نشانے کی جگہ نہ بنا ہے نشانہ سیدھا کرنے کے لیے دیواریں نہیں ہیں درخت نہیں ہیں کوئی پتھر نہیں ہیں کوئی چٹانے نہیں ہیں کوئی اور نشان مقرر نہیں کر سکتے تمہیں یہ یہ جگر گوشے والے جانور جن کو تکلیف اور عذیت پہنچتی ہے یہی تمہیں نظر آئے ہیں تو بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ احسان کرو اچھا صلوک کرو اچھا برطاؤ کرو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اپنے غلاموں سے کام لو وہ تمہارے غلام ہیں آج کی اسطلاع میں آج کے دور میں ملازم ہیں نوکر ہیں کام لو لیکن ان کی طاقت سے بڑھ کر ان کے بوجھ نہ ڈالو ان کی طاقت سے بڑھ کر ان کو مکلف نہ کرو اگر کوئی ایسا کام آگیا ہے جو تم نے کروانا ہے اور اسی ملازم سے یا اس دور کے غلام اور لونڈیوں سے کروانا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ان کا ہاتھ بٹھاؤ پھر ان کی مدد کرو ان کی مو سے کروانے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ان کا ہاتھ بٹھاؤ پھر ان کی مدد کرو ان کی مدد کرو ان کا ہاتھ بٹھاؤ ان کی طاقت سے بڑھ کر مقلف نہ کرو تو یہاں بھی فرمایا اللہ نے ہر چیز پر احسان لکھا ہے حتیٰ کہ فرمایا جب جانور کو زبا کرو اچھے طریقے سے زبا کرو اور کیا کرو دو باتیں بیان فرمائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں ایک تو ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے زبا نہ کرو اس میں کیا ہے وہ جو دوسرا جانور ہے اس کو آپ اس کے سامنے جب ایک جانور کو زبا کر رہے ہیں تو اس کو بھی زبا کر رہے ہیں وہ اس کو زبا ہوتے ہوئے دیکھ کے وہ بھی زبا ہو رہا ہے وہ بھی تڑپ رہا ہے وہ بھی پیچین ہو رہا ہے وہ بھی پریشان ہو رہا ہے وہ بھی ڈر رہا ہے اور پھر دوبارہ تم اس کو زبا کرو گے اس کو تم نے دو بار زبا کیا اور قربانیوں کے موقع پر ہمارے ہاں اس حدیث پر بالکل عمل نہیں ہوتا حد تل امکان عمل کرنے چاہیے الگ لے جا کے کسی الگ جگہ پر جانور کو زبا کریں تاکہ دوسرے جانوروں کی عذیت اور تکلیف کا باعث نہ ہو اور فرمایا کہ چھوری کو تیز کر لیا کرو تیز تاکہ جلدی سے تیزی سے حلق کٹ جائے نار ہو جائے اور جانور زبا ہو جائے اور زیادہ عذیت نہ ہو اگر کند چھوڑی ہے تو اس کو زبا کر رہے ہو چھوڑی پھیر رہے ہو وہ ترپ رہا ہے تم چھوڑی پھیر رہے ہو اور اس طرح تم مسلسل اس کو عذیت دے رہے ہو فرمائے جانوروں کو بھی عذیت نہ دو یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی چند جھلکیاں تھیں مزید بھی کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صیرت تیبہ سے چیدہ چیدہ حسن اخلاق کی بات ہے انشاءاللہ وہ دیان ہوں گی یہ تذکرہ ہے کائنات کے عظیم ہستی محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللہ نے اعلی اخلاق کا مالک قرار دیا ہے اللہ نے جن کی زندگی کی قسم کھائی ہے اللہ نے جنہیں ہمارے لئے نمونہ بنایا ہے اللہ کے رسول جس طرح عقیدے میں مضبوط پہاڑ تھے اور عمل اور عبادت میں مضبوط پہاڑ تھے تعلق باللہ میں مضبوط پہاڑ تھے اسی ط باللہ میں مضبوط پہاڑ تھے اسی طرح آپ سسلم اخلاق حسانہ میں بھی انتہائی اعلیٰ میار پر قائم تھے کیوں نہ ہوں وہ تو فرماتے ہیں وہ اشتد و تمممہ مقارم الاخلاق لوگو میری بے صد کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل اللوں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال سے بھی کی ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صیرت سے اعمال اور افعال سے کی ہے آئیے ہم عظم کریں ہم اپنے پیارے نبی کو عقیدے میں عبادت میں تعلق باللہ میں بھی نمونہ بنائیں گے اور اخلاق حسنے میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بنائیں گے اور اخلاق حسنہ میں بھی اپنے نبی سسلم کو نمونہ بنائیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے عمل کی توفیق دے وآخر دعوانا الحمدلل نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهديه الله فلا مزل له ومن يزلله فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نسل واحدة وخلق منها زوجها وبس منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تسألون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يسله لكم أعمالكم ويغفر لكم زنوبكم ومن يتع الله ورسوله فقد فاز فوزا عزيما اللهم صلي على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم انصر من نسل دين محمد صلى الله عليه وسلم واجعلنا منهم وقذل من نسل دين محمد صلى الله عليه وسلم واجعلنا منهم وقلل من خذل دين محمد صلى الله عليه وسلم ولا تجعلنا منهم إباد الله رحمكم الله إن الله يعمر بالعدل والإحسان ويتاز القربة وينهى من الفحشاء والمنكر والبغج يعذكم لعلكم تذكرون