بوڑھے اور بیمار والدین کا حق

بوڑھے اور بیمار والدین کا حق
شیخ داود شاکر حفظہ اللہ
مسجد رحمان
جمعہ خطبہ
؛ 2 اکتوبر 2026

اس خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے:

یہ اجتماع “بوڑھوں اور بیماروں کے حقوق” سے متعلق سلسلے کا دوسرا حصہ تھا، جس میں بوڑھے، بیمار اور معذور افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے ان کی اولاد، اہل خانہ، قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔

بنیادی نکات:

  • دیکھ بھال کی اولیت اور ترتیب:
  1. اولاد اور اہل خانہ: سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری اولاد پر عائد ہوتی ہے، بالخصوص بیٹوں پر کیونکہ ان کے پاس مالی وسائل اور دیکھ بھال کا موقع ہوتا ہے۔
  2. قریبی رشتہ دار: اگر اولاد نہ ہو یا ان کے علاوہ، قریبی رشتہ داروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔
  3. پڑوسی اور عام مسلمان: پڑوسیوں اور دیگر عام مسلمانوں پر بھی اخلاقی و شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیمار یا بوڑھے بھائیوں کا خیال رکھیں۔
  • قرآنی ہدایات (سورۃ النساء: 36):
  • اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں، ساتھ بیٹھنے والوں، مسافروں اور زیرِ دست لوگوں (ملازمین) کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔
  • جو شخص تکبر اور غرور رکھتا ہے، وہ اللہ کی عبادت اور حقوق العباد (والدین و دیگر کا خیال رکھنا) بہتر طور پر ادا نہیں کر سکتا۔
  • والدین کے ساتھ حسنِ سلوک (قرآنی آیات کے روشنی میں):
    قرآن مجید کی مختلف سورتوں (مثلاً سورۃ البقرہ، الانعام، الاسراء، العنکبوت، لقمان، الاحقاف) کا خلاصہ درج ذیل 9 نکات پر مشتمل ہے:
  1. والدین سے احسان و حسنِ سلوک کرنا۔
  2. ادب و احترام سے بات کرنا۔
  3. ان کے سامنے زبان پر “اف” تک نہ لانا۔
  4. ان کو نہ جھڑکنا۔
  5. بڑھاپے میں ان کی خصوصی نگہداشت کرنا۔
  6. رحمت اور عاجزی کے ساتھ ان کے سامنے جھکے رہنا۔
  7. ان کے لیے دعا کرتے رہنا۔
  8. جائز اور شرعی حد میں ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔
  9. اگر وہ شرک یا معصیت کا حکم دیں تو اس میں ان کی پیروی نہ کرنا، مگر اس کے باوجود دنیا کے معاملات میں ان سے اچھا برتاؤ جاری رکھنا۔
  • انبیاء علیہم السلام کے اسوہ سے مثالیں:
  • حضرت یحییٰ علیہ السلام: والدین کے ساتھ انتہائی نرم دل اور نیکی کرنے والے تھے، سرکش نہ تھے۔
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام: انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی بات کی اور خود کو سرکش یا بدبخت نہیں بنایا۔
  • حضرت یوسف علیہ السلام: عزیزِ مصر بننے کے بعد بھی والدین کی تعظیم کی، ان کو تخت پر بٹھایا اور ان کے احترام میں عاجزی کا مظاہرہ کیا۔ (اس پر تنبیہ کی گئی کہ محض پیسے بھیج دینا کافی نہیں، بڑھاپے میں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔)
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام: اپنے مشرک والد کو نہایت ادب، پیار (“یا ابَتِ” – اے میرے پیارے ابا جان) اور عاجزی کے ساتھ توحید کی دعوت دی۔
  • والدین اور اولاد کے دینی فکر:
    والدین اور اولاد دونوں کو ایک دوسرے کی آخرت اور دینداری کی فکر کرنی چاہیے (جس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی ہدایت کے لیے نبی کریم ﷺ سے دعا کروائی تھی)۔

مستدعٰی / مالی تعاون کی اپیل:
خطاب کے آخر میں ملتان (خانبیلہ، پیر والا) کے ایک دیہی علاقے میں ایک نئی مسجد کی تعمیر کے لیے بنیاد (فاؤنڈیشن) کے اخراجات (تقریباً 17 سے 20 لاکھ روپے) کی ادائیگی کے لیے فوری مالی تعاون کی درخواست کی گئی۔